ہراک پاکستانی ہے خیبر شکن
اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک پرامن، خودمختار اور ذمہ دار ریاست ہے جس کی بنیاد انصاف، امن اور آئین کی بالادستی پر رکھی گئی ہے۔ اس ریاست نے ہمیشہ اپنے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کو جس سنگین چیلنج کا سامنا کرنا پڑا وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی صورت میں سامنے آیا۔ دہشت گرد عناصر نے نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی بلکہ معصوم شہریوں، تعلیمی اداروں، عبادت گاہوں اور قومی تنصیبات کو نشانہ بنا کر پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازش کی۔ لیکن آج ریاست پاکستان پوری قوت اور عزم کے ساتھ یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ ملک کسی صورت جرائم پیشہ عناصر، شدت پسند گروہوں یا دہشت گرد تنظیموں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے عوام، ریاستی ادارے اور سکیورٹی فورسز ایک متحد قوت کی طرح دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
حال ہی میں دہشت گرد گروہوں کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف نام نہاد “آپریشن خیبر” جیسے خود ساختہ اعلانات دراصل ایک ناکام اور مایوس کن کوشش ہیں۔ یہ عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کو نہایت ڈھٹائی سے مسخ دیں گے کہ جیسے لوگوں کو علم نہ ہو کہ خیبر کا معرکہ کیا تھا تو انہیں شدید غلط فہمی ہوئی ہے ایسا سوچ کے بھی۔یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست اور عوام کا عزم فولاد سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ ایسے خود ساختہ آپریشن دراصل دہشت گردی کو جواز دینے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔ ان کے پیچھے نہ کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ کوئی اخلاقی جواز۔ یہ صرف اور صرف تشدد، خوف اور انتشار کو فروغ دینے کی سازش ہیں۔ پاکستان کی ریاست ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ سکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے چوکنا ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس اصول کو مقدم رکھا ہے کہ کسی بھی گروہ یا تنظیم کو ریاست کے اندر متوازی طاقت بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دہشت گرد تنظیمیں دراصل ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔ مگر پاکستان کی ریاست ایک مضبوط اور باوقار ریاست ہے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہے اور قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جو بھی گروہ یا فرد ہتھیار اٹھا کر ریاست کے خلاف کھڑا ہوگا، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ ایک واضح اور غیر مبہم پیغام ہے کہ پاکستان میں بندوق کے زور پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہریوں، فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ ملک میں امن قائم رہ سکے۔ ان قربانیوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گی۔ پاکستانی فوج، پولیس، رینجرز، فرنٹیئر کور اور دیگر سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال کارروائیاں کیں اور ملک کے کئی علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا اور ریاستی رٹ بحال ہوئی۔ یہ قربانیاں محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی عزم کی علامت ہیں۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے عوام اور ادارے اپنے وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ آج ہر پاکستانی اس عزم کے ساتھ کھڑا ہے کہ وہ اپنے ملک کو دہشت گردی کے اندھیروں سے نکال کر امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ ہر پاکستانی خیبر شکن ہے” دراصل اسی قومی عزم کی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مزاحمت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اتحاد، شعور اور قومی یکجہتی سے بھی کی جاتی ہے۔طلبہ، اساتذہ، علما، دانشور، صحافی، سماجی کارکن اور عام شہری سب اس جدوجہد کا حصہ ہیں۔ جب پوری قوم ایک آواز بن جائے تو کوئی بھی دہشت گرد تنظیم یا شدت پسند گروہ اس کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک مضبوط قومی بیانیہ بھی ضروری ہے۔ یہ بیانیہ واضح طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی نہ اسلام کا حصہ ہیں اور نہ ہی پاکستانی معاشرے کی اقدار کے مطابق ہیں۔
پاکستان کی مذہبی، ثقافتی اور سماجی روایات ہمیشہ برداشت، امن اور احترامِ انسانیت پر مبنی رہی ہیں۔ دہشت گرد عناصر ان اقدار کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے نظریات کو مسلط کر سکیں۔ مگر پاکستانی معاشرہ اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ امن اور ترقی کا راستہ صرف اعتدال اور قانون کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور عوام دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ریاست اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، جبکہ عوام کا فرض ہے کہ وہ امن اور استحکام کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے رہیں۔ عوامی تعاون، بروقت معلومات کی فراہمی، اور دہشت گردی کے بیانیے کو مسترد کرنا اس جدوجہد کا اہم حصہ ہے۔ جب معاشرہ اجتماعی طور پر دہشت گردی کو مسترد کر دے تو دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔
پاکستان ایک نوجوان اور باصلاحیت قوم کا ملک ہے۔ یہاں کے نوجوان امن، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی کے خواب دیکھتے ہیں۔ دہشت گردی دراصل انہی خوابوں کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ مگر پاکستان کا مستقبل روشن ہے کیونکہ اس قوم نے ہمیشہ مشکلات کا مقابلہ ہمت اور اتحاد سے کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی یہی جذبہ کارفرما ہے۔ ریاست پاکستان واضح طور پر یہ اعلان کر چکی ہے کہ ملک کے امن اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جو عناصر تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں ہر محاذ پر شکست دی جائے گی۔ پاکستان کی ریاست اور عوام ایک واضح اور مضبوط مؤقف کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔ یہ پیغام بالکل صاف ہے کہ دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے، ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اور پاکستان کو جرائم پیشہ عناصر کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
تحریک طالبان یا کسی بھی دہشت گرد گروہ کے نام نہاد اعلانات اور کارروائیاں پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ اس کے برعکس یہ پوری قوم کو مزید متحد اور مضبوط بناتے ہیں۔ آج پاکستان کا ہر شہری اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ امن، ترقی اور استحکام کے لیے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ اسی لیے ہر پاکستانی اس عزم کے ساتھ کھڑا ہے کہ وہ اپنے وطن کو محفوظ، مستحکم اور پرامن بنانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک