(KAAD) کاڈ،عورت کارڈ اور فراڈ بلوچستان کی حقیقی بیٹیاں دہشت گردی کے بیانیے کے مقابلے میں ترقی، تعلیم اور امن کی ترجمان خواتین بلوچستان کا نام صرف پہاڑوں، معدنی ذخائر، وسیع جغرافیے اور طویل ساحلی پٹی سے وابستہ نہیں؛ یہ نام ان لاکھوں خاندانوں، طالبات، اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلا، افسران، سیاست دانوں، سائنس دانوں، فن کاروں، […]
بلوچستان کا نام صرف پہاڑوں، معدنی ذخائر، وسیع جغرافیے اور طویل ساحلی پٹی سے وابستہ نہیں؛ یہ نام ان لاکھوں خاندانوں، طالبات، اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلا، افسران، سیاست دانوں، سائنس دانوں، فن کاروں، کاروباری خواتین اور ان بے شمار ماؤں سے بھی جڑا ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہر روز جدوجہد کر رہی ہیں۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی مجموعی آبادی تقریباً 14.89 ملین ہے، جس میں 7,125,471 خواتین شامل ہیں، یعنی صوبے کی آبادی کا تقریباً 47.8 فیصد۔ ایک ایسی بڑی انسانی قوت جسے کسی مسلح گروہ، چند افراد یا تشدد کے کسی واقعے کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا۔
حالیہ دنوں میں کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کی جانب سے Karima Armed Assault Division، یعنی KAAD نامی خواتین پر مشتمل مسلح یونٹ کے قیام کا اعلان اور اس کی مبینہ کارروائیوں کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق BLF نے ستمبر 2026 میں اس یونٹ کو متعارف کرایا اور اسے مسلح کارروائیوں سے منسلک کیا۔ اس تنظیم کو پاکستان میں 8 ستمبر 2010 سے کالعدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) بھی 7 اپریل 2006 سے کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے۔ یہاں اصل سوال KAAD کے وجود سے کہیں زیادہ بڑا ہے: کیا چند مسلح خواتین یا کسی عسکری تنظیم کی جانب سے خواتین کے نام کا استعمال بلوچستان کی حقیقی خواتین کی نمائندگی قرار دیا جاسکتا ہے؟
اس سوال کا جواب بلوچستان کی گلیوں، یونیورسٹیوں، اسکولوں، ہسپتالوں، عدالتوں، سرکاری دفاتر، کاروباری مراکز، کھیل کے میدانوں، ادبی محفلوں، تحقیقی اداروں اور گھروں میں ہر روز ملتا ہے۔ بلوچستان کی حقیقی عورت بندوق کے ذریعے اپنی شناخت نہیں بناتی؛ وہ علم، کردار، پیشہ ورانہ قابلیت، خدمت اور اپنے خاندان و معاشرے کی تعمیر سے اپنا مقام پیدا کرتی ہے۔ KAAD کو ’’بلوچ خواتین کی نمائندگی‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش اسی لیے قابلِ غور ہے کہ اس سے بلوچستان کی لاکھوں پرامن خواتین کی اجتماعی شناخت کو ایک مسلح گروہ کے بیانیے میں محدود کرنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کی نمائندگی کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ کون زیادہ تشدد کرسکتا ہے، بلکہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ کون اس قوم کے مستقبل کو تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ایک طرف کسی مسلح تنظیم کی جانب سے خواتین کو عسکری سرگرمیوں میں شامل کرنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں تو دوسری طرف بلوچستان کی لاکھوں بیٹیاں کتاب اٹھائے ہوئے ہیں۔ کوئی کوئٹہ، تربت، خضدار، چمن، گوادر، سبی، ژوب، لورالائی، نصیرآباد یا کسی دوسرے شہر میں یونیورسٹی جا رہی ہے؛ کوئی میڈیکل کالج میں ڈاکٹر بننے کی تیاری کر رہی ہے؛ کوئی کلاس روم میں استاد بننے کا خواب دیکھ رہی ہے؛ کوئی مقابلے کے امتحان کی تیاری کررہی ہے؛ کوئی کاروبار شروع کرنے کے لیے مہارت حاصل کررہی ہے؛ کوئی کھیل کے میدان میں بلوچستان کا نام روشن کررہی ہے۔ یہی بلوچستان کی حقیقی تصویر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ خود خواتین کے حقوق، وقار اور اجتماعی شناخت کے خلاف بھی ایک خطرناک رجحان ہے۔ عورت کو ایک انسان، ماں، بیٹی، بہن، طالبہ، استاد، ڈاکٹر، افسر، کاروباری شخصیت یا رہنما کے بجائے ایک ’’آپریشنل اثاثے‘‘ میں تبدیل کرنا اس کی شخصیت کو محدود کرنا ہے۔ جس معاشرے میں عورت کی تعلیم اور صلاحیت کو اس کی قوت سمجھا جانا چاہیے، وہاں اسے تشدد کے لیے استعمال کرنا دراصل اس کے انسانی امکانات پر حملہ ہے۔
بلوچستان کی تاریخ اور سماجی روایت میں عورت محض کسی تنازعے کی علامت نہیں۔ بلوچ معاشرے میں عزت، مہمان نوازی، بہادری، عہد کی پاسداری، اجتماعی ذمہ داری اور خاندان کے احترام کو اہم مقام حاصل رہا ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، سیاسی مطالبات اپنی جگہ اور حقوق کی جدوجہد اپنی جگہ؛ مگر اختلاف کو مسلح تشدد میں تبدیل کرنا کسی بھی معاشرے کے لیے تباہ کن ہے۔ سیاسی یا سماجی شکایت کا علاج سیاسی عمل، مکالمے، عدالت، پارلیمان، صحافت، تعلیم، تحقیق اور پرامن جدوجہد میں تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ بندوق، بارود یا خودکش کارروائی میں۔ اسلام نے انسانی جان کو غیر معمولی حرمت دی ہے۔ قرآن مجید کسی بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیتا ہے۔ اس بنیادی اخلاقی اصول کے ہوتے ہوئے کسی بھی تنازعے کو اس مقام تک لے جانا جہاں معصوم شہریوں، طلبہ، مسافروں، مزدوروں، سرکاری اہلکاروں یا عام خاندانوں کی جان خطرے میں پڑ جائے، اسلامی اخلاقیات سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔ مذہب کے نام پر ہو یا قومیت کے نام پر، تشدد کو تقدس کا لباس پہنانا بنیادی انسانی اخلاقیات کو مجروح کرتا ہے۔ اسی طرح آئین پاکستان شہریوں کو زندگی، آزادی، مساوات اور قانون کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ریاست کے سیاسی و انتظامی نظام سے اختلاف کا حق اپنی جگہ، لیکن اختلاف کے اظہار اور مسلح دہشت گردی میں بنیادی فرق موجود ہے۔ آئینی راستہ یہ ہے کہ شکایات کو اداروں تک پہنچایا جائے، نمائندگی حاصل کی جائے، انتخابات میں حصہ لیا جائے، عدالتوں سے رجوع کیا جائے، صحافت اور علمی مباحث کو استعمال کیا جائے اور عوامی رائے کو پرامن طریقے سے منظم کیا جائے۔
اس تناظر میں بلوچستان کی خواتین کی ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے۔ صوبے نے ایسی خواتین کو جنم دیا جنہوں نے سیاست، پارلیمان، انتظامیہ،سول سروس، عدلیہ، تعلیم، طب، ادب، کھیل، سائنس، فنون اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں اپنی قابلیت ثابت کی۔ سائرہ عطاء، آمنہ بلوچ، عائشہ زہری، صدف بتول، روحانہ گل کاکڑ، حمیرا بلوچ، طاہرہ صفدر، ممتاز زہرا بلوچ، حلینہ سعید، پری گل، شازیہ سرور، بتول اسدی، طاہرہ صفدر، ماریہ شمعون، روشن خورشید بروچہ، ماریہ شمعون اور ایسی بے شمار خواتین کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ عورت کی اصل طاقت تخلیق، قابلیت اور خدمت ہے۔ یہ سب اس وسیع حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بلوچ عورت کی شناخت کسی ایک مسلح گروہ کی ترجمانی سے کہیں وسیع ہے۔ اور اس تصویر کو صرف چند معروف ناموں تک محدود کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں کام کرنے والی وہ لیڈی ڈاکٹر جو دشوار گزار علاقے میں مریضوں کا علاج کرتی ہے، وہ استاد جو دیہی اسکول میں بچیوں کو پڑھاتی ہے، وہ نرس جو ہسپتال میں رات کی ڈیوٹی دیتی ہے، وہ پولیس افسر جو قانون کی حفاظت کرتی ہے، وہ خاتون سرکاری اہلکار جو عوامی خدمت انجام دیتی ہے، وہ کاروباری خاتون جو اپنے گھر کا نظام بہتر بناتی ہے، وہ طالبہ جو پہلی مرتبہ اپنے خاندان میں یونیورسٹی تک پہنچتی ہے اور وہ ماں جو اپنے بیٹے اور بیٹی دونوں کو تعلیم دلاتی ہے یہ سب بلوچستان کی اصل تعمیر کار ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی ایک فرد کے عمل کو پوری بلوچ قوم یا تمام بلوچ خواتین پر منطبق نہ کیا جائے۔ اگر کسی خاتون نے کسی مسلح کارروائی میں حصہ لیا ہے تو اس کا جواب دہ ہونا اس کے اپنے عمل کے مطابق ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی تنظیم نے کسی عورت کو عسکری مقصد کے لیے استعمال کیا ہے تو اس تنظیم کی ذمہ داری کو پورے بلوچ معاشرے پر منتقل کرنا بھی درست نہیں۔ دہشت گردی کی ذمہ داری دہشت گردی کرنے والے فرد اور تنظیم پر عائد ہونی چاہیے، کسی قوم، زبان یا پورے صنفی گروہ پر نہیں۔
ماضی میں بھی بلوچ علیحدگی پسند مسلح گروہوں کی جانب سے خواتین کو مختلف کرداروں میں استعمال کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل بھی کالعدم بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیمیں جن میں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے متعدد خواتین جنہیں بہلا پھسلا کے مختلف مقامات پہ تخریبی کاروائیوں میں استعمال کیا گیا جن میں شاری بلوچ، کریمہ بلوچ،محل بلوچ، سمعیہ قلندرانی، آصفہ مینگل، حوا بلوچ، خدیجہ، صفیہ، زرینہ رفیق اور شہناز بلوچ جیسی دیگر شامل ہیں۔ لیکن یہاں بھی ایک بنیادی اصول کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے: کسی شخص کی مبینہ دہشت گردانہ سرگرمی اس شخص کی جنس کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ایک خاتون دہشت گردی کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بلوچستان کی خواتین دہشت گردی کی حامی ہیں۔ اسی طرح ایک مرد دہشت گردی کرے تو تمام بلوچ مردوں کو دہشت گرد قرار دینا بھی اتنا ہی غلط ہوگا۔ معاشروں کو افراد کے جرائم سے نہیں بلکہ ان کے مجموعی کردار سے سمجھا جاتا ہے۔ KAAD کے بارے میں حالیہ رپورٹس بھی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خود BLF نے اسے ایک منظم خواتین کے مسلح ڈھانچے کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ مختلف ذرائع نے اس کے تربیتی مناظر اور مبینہ کارروائیوں کی اطلاع دی ہے۔ BLF نے ستمبر 2026 میں تربت اور قلات کے علاقوں میں کارروائیوں کے بارے میں دعوے کیے، تاہم ان دعوؤں کے بعض اہم پہلو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں تھے۔ یہاں ’’فراڈ‘‘ کا مفہوم بھی درست طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر KAAD کو پورے بلوچستان کی خواتین کی آواز یا بلوچ عورت کی اجتماعی نمائندگی کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ دعویٰ ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ سات ملین سے زیادہ خواتین پر مشتمل پورے معاشرے کی نمائندگی کسی مسلح تنظیم کے محدود ارکان نہیں کرسکتے۔ تاہم یہ کہنا کہ اس یونٹ کا وجود ہی سرے سے جعلی ہے، دستیاب اطلاعات کی روشنی میں زیادہ مضبوط دعویٰ ہوگا جسے احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بہتر اور زیادہ مؤثر مؤقف یہ ہے کہ اسے بلوچستان کی خواتین کی نمائندہ قوت قرار دینا گمراہ کن ہے۔
یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ قومی بیانیہ ہمیشہ حقائق کی مضبوط بنیاد پر زیادہ مؤثر بنتا ہے۔ بلوچستان کی حقیقی عورت کی قوت اس وقت دکھائی دیتی ہے جب ایک بیٹی اپنے خاندان کی روایتی مشکلات کے باوجود تعلیم حاصل کرتی ہے۔ وہ اس وقت نظر آتی ہے جب کوئی طالبہ انجینئر بننے کا خواب دیکھتی ہے، کوئی ڈاکٹر بن کر اپنے ضلع واپس آتی ہے، کوئی استاد بن کر سینکڑوں بچوں کو پڑھاتی ہے، کوئی وکیل بن کر لوگوں کو قانونی مدد فراہم کرتی ہے، کوئی افسر بن کر ریاستی ادارے میں ذمہ داری نبھاتی ہے اور کوئی کاروباری خاتون اپنے ساتھ دوسری خواتین کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کا خواتین کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کا رجحان دراصل بلوچستان کی خواتین کی حقیقی سماجی ترقی سے متصادم ہے۔ ایک طرف تعلیم، روزگار، سیاسی شرکت اور فیصلہ سازی میں خواتین کے مواقع بڑھانے کی کوششیں ہیں؛ دوسری طرف انہیں تشدد، مسلح کارروائی اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں۔ ایک راستہ زندگی کی طرف جاتا ہے، دوسرا موت اور تباہی کی طرف۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ایک ایسی طالبہ کے مستقبل پر کیا گزرتی ہے جس کے شہر میں دہشت گردی ہو؟ ایک ایسی ماں کا کیا نقصان ہے جس کا بچہ اسکول جاتے ہوئے خوف محسوس کرے؟ ایک ایسے استاد کے لیے تعلیم کیسے آسان ہوسکتی ہے جس کے علاقے میں تشدد کا خطرہ ہو؟ ایک کاروباری خاتون کیسے سرمایہ کاری کرے گی جب سڑکیں، بازار اور مواصلاتی نظام عدم تحفظ کا شکار ہوں؟ دہشت گردی صرف ایک شخص کو نہیں مارتی؛ وہ پورے معاشی، تعلیمی اور سماجی ماحول کو زخمی کرتی ہے۔ اس لیے بلوچستان کی خواتین کے نام پر تشدد کا ہر منصوبہ دراصل خواتین کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ اگر کسی علاقے میں مسائل ہیں تو ان مسائل سے انکار نہیں ہونا چاہیے۔ بلوچستان کو تعلیم، صحت، روزگار، پانی، انفراسٹرکچر، سیاسی شمولیت، مقامی حکومت، نوجوانوں کے مواقع، معدنی وسائل میں منصفانہ شرکت اور قانون کی بالادستی سمیت متعدد شعبوں میں مسلسل توجہ کی ضرورت ہے۔ لیکن مسائل کا وجود دہشت گردی کا جواز نہیں بن سکتا۔ ایک گھر میں مسئلہ ہو تو گھر کو آگ نہیں لگائی جاتی؛ اسے بات چیت، اصلاح اور تعاون سے بہتر کیا جاتا ہے۔ اسی اصول کو بڑے معاشرے پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو بندوق نہیں، مواقع درکار ہیں؛ طالبات کو بارود نہیں، کتاب چاہیے؛ یونیورسٹیوں کو دھمکیاں نہیں، تحقیق چاہیے؛ بازاروں کو خوف نہیں، سرمایہ کاری چاہیے؛ خاندانوں کو جنازے نہیں، روزگار اور خوشحالی چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر بلوچستان کی عورت کو کسی مسلح تنظیم کے پروپیگنڈے کی علامت بننے کے بجائے اپنی حقیقی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کا حق حاصل ہے۔
یہاں سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بیانیہ ایسا ہو جس میں بلوچستان کے عوام کو دہشت گردی سے الگ رکھا جائے۔ بلوچ شہری دہشت گرد نہیں؛ دہشت گردی کرنے والا شخص یا تنظیم دہشت گرد ہے۔ بلوچ خواتین کسی مسلح تنظیم کی ملکیت نہیں؛ وہ پاکستان کے آئینی شہری اور اپنے مستقبل کی خود مختار معمار ہیں۔ یہی فرق قومی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے اور یہی دہشت گرد تنظیموں کے اس دعوے کو کمزور کرتا ہے کہ وہ کسی پوری قوم کی نمائندگی کرتی ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی پوچھے کہ بلوچستان کی حقیقی عورت کون ہے تو جواب کسی KAAD ویڈیو میں نہیں ملے گا۔ جواب اس بچی کے ہاتھ میں ملے گا جو کتاب لے کر اسکول جا رہی ہے۔ جواب اس طالبہ میں ہے جو یونیورسٹی کے امتحان کی تیاری کر رہی ہے۔ جواب اس ڈاکٹر میں ہے جو ہسپتال میں مریض دیکھ رہی ہے۔ جواب اس استاد میں ہے جو کلاس روم میں مستقبل بنا رہی ہے۔ جواب اس پولیس افسر میں ہے جو قانون کی حفاظت کر رہی ہے۔ جواب اس سرکاری افسر میں ہے جو عوامی خدمت انجام دے رہی ہے۔ جواب اس کھلاڑی میں ہے جو بلوچستان کا پرچم بلند کر رہی ہے۔ جواب اس ادیبہ اور فن کارہ میں ہے جو اپنے معاشرے کی ثقافت کو زندہ رکھ رہی ہے۔ جواب اس کاروباری خاتون میں ہے جو اپنے خاندان اور دوسری خواتین کے لیے معاشی راستے پیدا کر رہی ہے۔ اور جواب ان لاکھوں ماؤں میں ہے جو اپنے بچوں کے لیے امن، تعلیم اور عزت کا مستقبل چاہتی ہیں۔ یہی بلوچستان کی اصل آواز ہے۔
جو تنظیم عورت کے ہاتھ میں کتاب کے بجائے بندوق دیتی ہے، وہ بلوچستان کا مستقبل تعمیر نہیں کر رہی؛ وہ ایک نسل کے امکانات محدود کر رہی ہے۔ جو بیانیہ نوجوان کو تعلیم کے بجائے تشدد کی طرف لے جاتا ہے، وہ قومی آزادی کا نہیں بلکہ انسانی صلاحیتوں کی تباہی کا بیانیہ ہے۔ اور جو کسی پورے صوبے کی خواتین کو چند مسلح افراد کے عمل سے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے، وہ خود بلوچستان کی کروڑوں خوابوں سے ناانصافی کرتا ہے۔ بلوچستان کی سات ملین سے زائد خواتین کو کسی مسلح گروہ کی نمائندگی کی ضرورت نہیں۔ ان کی اپنی آواز ہے، اپنی صلاحیت ہے، اپنی شناخت ہے اور اپنا مستقبل ہے۔ فیصلہ بھی اسی بنیاد پر ہونا چاہیے: کون بلوچستان کے بچوں کو اسکول بھیج رہا ہے، کون ہسپتال بنا رہا ہے، کون عدالت میں انصاف کے لیے کھڑا ہے، کون علم پیدا کررہا ہے، کون روزگار پیدا کررہا ہے، کون ملک و صوبے کی خدمت کررہا ہے اور کون موت، خوف اور تباہی کا راستہ اختیار کررہا ہے۔ اگر نمائندگی کا معیار تعمیر ہے تو بلوچستان کی حقیقی نمائندہ وہ عورت ہے جو تعمیر کر رہی ہے۔ اگر معیار مستقبل ہے تو وہ عورت حقیقی ترجمان ہے جو اپنی بیٹی کو پڑھا رہی ہے۔ اگر معیار امن ہے تو وہ ماں حقیقی آواز ہے جو اپنے بچے کو بندوق نہیں بلکہ کتاب تھما رہی ہے۔ اور اگر معیار بلوچستان کی ترقی ہے تو پھر فیصلہ بالکل واضح ہے: بلوچستان کی اصل بیٹیاں وہ ہیں جو زندگی، تعلیم، امن، قانون، علم، خدمت اور ترقی کے لیے کھڑی ہیں—نہ کہ وہ عناصر جو عورت کے نام کو تشدد کی شناخت بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جو بلوچستان کی حقیقی خواتین کو دہشت گردی کے مصنوعی بیانیے سے الگ کرتا ہے، اور یہی فرق دنیا کے سامنے واضح ہونا چاہیے۔ گھروں میں مسائل بھی ہوتے ہیں مگر کیا اس پہ ہتھیار اٹھا لیے جائیں جو اسلام، آئین پاکستان اور بلوچ اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جو نہایت ہی ناقابلِ برداشت ہے۔ ملک کو ان دہشتگردوں کے حوالے کر کے معصوم اور مثبت فکر وعمل کے حامل افراد کی تقدیر کو ملیا میٹ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آپ خود ہی موازنہ کریں کہ کون بلوچ قوم کی حقیقی نمائندگی کر رہا ہے دہشتگردی کی مرتکب خواتین یا بلوچستان کی ترقی میں دن رات کوشاں خواتین۔
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک