12 اگست: بین الاقوامی یومِ نوجواناں

جب کوئی سرمایہ بے حد قیمتی ہو اور انسان کی زندگی اس سے وابستہ ہو جائے تو اسے مختلف حوادث اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے انسان اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے، کیونکہ یہی سرمایہ اس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ بالکل یہی اصول کسی بھی قوم و ملک کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ، یعنی نوجوانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ نوجوان اپنی توانا سوچ، ولولہ انگیز جذبے، جوش، عزم اور جدت پسندی کی بدولت ترقی کے سفر کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے والدین سے لے کر معاشرے کے ہر فرد کی امیدیں نوجوانوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ یہ قیمتی سرمایہ کسی غفلت، کوتاہی یا غلط ہاتھوں میں چلا جائے اور اپنی اور اپنے ساتھ وابستہ امیدوں کو خاک میں ملا دے۔ ہر قوم اور ملک کی اولین ترجیحات میں نوجوان ہمیشہ سرفہرست رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی پرورش، نگہداشت، رہنمائی اور ان پر کیے جانے والے اعتماد کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، خواہ یہ انفرادی سطح پر ہو یا اجتماعی سطح پر۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب پوری قوم یکجا ہو کر اس قیمتی سرمائے کو کارآمد بنانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے، اس کی مناسب تربیت کرے اور اسے عصرِ حاضر کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ نوجوان معاشرے کے ہر طبقے کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے اس پودے کی آبیاری اور نشوونما کے لیے مسلسل محنت، توجہ اور قربانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بھی نوجوان آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، جو اس طبقے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے اور اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کے مسائل، ضروریات اور صلاحیتوں کو سنجیدگی سے مدِنظر رکھا جائے۔

پاکستان کو کئی دہائیوں سے انتہا پسندی، متشدد رویوں، دہشت گردی اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگرچہ ان خطرات پر قابو پانے کے لیے مختلف سطحوں پر مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم یہ عناصر وقتاً فوقتاً نئے روپ دھار کر معاشرے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان چیلنجز کے نتیجے میں بے روزگاری، وسائل کی کمی، احساسِ محرومی اور نوجوانوں کے تخریبی سرگرمیوں کی طرف مائل ہونے جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کو ان خطرات سے محفوظ رکھنا ایک اہم قومی ہدف بن جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایک مضبوط، مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنا اور اسے عملی جامہ پہنانا ضروری ہے۔

شدت پسند اور دہشت گرد عناصر اپنے خودساختہ اور گمراہ کن بیانیوں کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی مذہب، کبھی لسانیت، کبھی احساسِ محرومی اور کبھی ذات، برادری یا علاقائی تعصبات کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت اور بداعتمادی پیدا کی جاتی ہے۔ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، ملک کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے سے بدظن کرنا، تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، جھوٹے پروپیگنڈے اور افواہوں کو تیزی سے پھیلانا، مالی لالچ کے ذریعے نوجوانوں کو جرائم کی طرف دھکیلنا اور غیر قانونی سرگرمیوں کو جائز قرار دینے کی کوششیں بھی اسی گمراہ کن حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ عوامی خدمت کے مراکز، تعلیمی اداروں، مدارس، عبادت گاہوں اور دیگر مقدس مقامات کو نقصان پہنچانا، معاشی و تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا، مزدوروں اور عام شہریوں کے روزگار کو متاثر کرنا، علماء، قبائلی عمائدین، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا، نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرنا، سمگلنگ اور دیگر جرائم کو فروغ دینا، منشیات کے استعمال اور غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف مائل کرنا، بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرنا اور سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات و افواہوں کو عام کرنا، ایسے عوامل ہیں جو معاشرے کے امن، استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان عناصر کا ایک اہم مقصد نوجوان نسل کی ذہن سازی کر کے انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے۔

نوجوان کسی بھی قوم کی سب سے بڑی قوت، امید اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ ان کی توانائی، تخلیقی صلاحیت، جدید سوچ اور جذبۂ عمل کو مثبت سمت فراہم کی جائے تو یہی نوجوان ملک کی معاشی ترقی، سماجی استحکام، علمی پیش رفت اور قومی یکجہتی کے مضبوط معمار بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں نوجوان آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، اس لیے ان کی تعلیم و تربیت، کردار سازی اور فلاح و بہبود قومی ترجیحات میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، روزگار کے مساوی مواقع، کھیل، ادب، ثقافت، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایسا ماحول تشکیل دینا بھی ضروری ہے جہاں نوجوان اپنی رائے کا مثبت اظہار کر سکیں، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھیں اور مکالمے، دلیل، رواداری اور قانون پسندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ موجودہ دور میں ڈیجیٹل ذرائع نوجوانوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مواد، گمراہ کن پروپیگنڈے اور انتہا پسندانہ بیانیوں کی پہچان اور تردید کے لیے ڈیجیٹل شعور سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنماؤں، میڈیا، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کو مل کر نوجوانوں کے لیے ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے جس میں وہ احساسِ محرومی کے بجائے امید، مایوسی کے بجائے عزم اور نفرت کے بجائے محبت و برداشت کو ترجیح دیں۔نوجوانوں کو قومی ذمہ داریوں سے روشناس کراتے ہوئے انہیں امن، بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور معاشرتی خدمت کی سرگرمیوں میں شامل کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جائے، انہیں درست رہنمائی اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اجتماعی کوشش کی جائے تو پاکستان کی نوجوان نسل ایک پُرامن، مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔